3 نومبر، 2026، 4:55 PM

دشمن کے مادی اور غیر مادی اثاثے ہماری پہنچ میں ہیں، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر

دشمن کے مادی اور غیر مادی اثاثے ہماری پہنچ میں ہیں، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے اپنے ایک پیغام میں تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد کے ایران کو دنیا کی ابھرتی ہوئی چوتھی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کے مادی اور غیر مادی اثاثے ہماری پہنچ میں ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی نے اپنے پیغام میں تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد کے ایران کو دنیا کی ابھرتی ہوئی چوتھی طاقت قرار دیا ہے۔

میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

۱۳ آبان 4 نومبر، ’’عالمی استکبار کے خلاف قومی جدوجہد کا دن‘‘ ایرانی قوم کے لیے محض کلینڈر کی مناسبت نہیں، بلکہ استکبار مخالف جدوجہد کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ یہ دن ایرانیوں کے تاریخی حافظے میں تین سبق آموز واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے: ۱۳۴۳ ہجری شمسی میں امام خمینیؒ کی جلاوطنی، ۱۳۵۷ ہجری شمسی میں انقلابی طلبہ کا قتلِ عام اور ۱۳۵۸ ہجری شمسی میں امریکی جاسوسی اڈے پر قبضہ۔

یہ تینوں واقعات ۲۸ مرداد ۱۳۳۲ کے فوجی انقلاب اور آپریشن ’’آژاکس‘‘ کے تناظر میں پیش آئے، جنہوں نے اسی لمحے سے امریکہ کو ایرانی قوم کا مقروض بنا دیا۔

۲۸ مرداد کے بعد ایران کے خلاف امریکی دشمنی ایک مسلسل سلسلہ رہی ہے، نہ کہ چند منتشر واقعات۔ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں صدام کی حمایت اور اس کا ساتھ دینا، منافقین اور انقلاب مخالف گروہوں کی پشت پناہی، جوہری سائنس دانوں کا قتل، اقتصادی جنگ اور پابندیاں، ایرانی قوم کے اثاثوں کو منجمد کرنا، میجر جنرل شہید حاج قاسم سلیمانی کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ اور ۱۴۰۴ اور ۱۴۰۵ ہجری شمسی میں ۱۲ روزہ اور ۴۰ روزہ مسلط کردہ جنگوں میں صہیونی حکومت کے ساتھ عملی فوجی تعاون، جس کے نتیجے میں امت کے قائد اور انقلابِ اسلامی کے عظیم رہبر حضرت امام سید علی خامنہ ای (قدس سرہ الشریف)، مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں، مجاہدین، وطن کے بہادر محافظوں اور بڑی تعداد میں مظلوم ایرانی شہریوں، بالخصوص معصوم بچوں نے جامِ شہادت نوش کیا جو کہ اس ملک کے خلاف امریکی دشمنی کے مستقل اور مسلسل سلسلے کی چند مثالیں ہیں۔

امریکہ کے جرائم کا سیاہ باب اب بھی کھلا ہوا ہے اور دنیا انقلابِ اسلامی اور اسلامی وطن کے خلاف وائٹ ہاؤس کی جارحیت اور جرائم کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

آج ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ہمہ جہت جنگ ایک فوجی تنازعے سے آگے بڑھ کر عالمی طاقت کے توازن کی ہیئت تبدیل کر رہی ہے۔ طاقتور ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جو توانائی کی ترسیل کی ایک اہم ترین گزرگاہ ہے اور اس تک رسائی کے قواعد متعین کرنے کے ذریعے دنیا کی چوتھی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ یک قطبی عالمی نظام اس نئی حقیقت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے کہ ’’قومیں اور علاقائی طاقتیں امریکہ کے سکیورٹی حصار پر انحصار کیے بغیر بھی اپنی سلامتی یقینی بنا سکتی ہیں۔

فوجی طاقت ہمارے لیے مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن وقت کے حقائق اور تقاضوں کے مطابق ہمارا نظریۂ دفاع ’’دفاعی حکمت عملی‘‘ سے ’’اقدامی اقدام‘‘ اور ’’بحران کے انتظام‘‘ سے ’’نظم و نظام کی تشکیل‘‘ کی جانب منتقل ہو چکا ہے۔

اس قابلِ فخر منظرنامے میں پائیدار سلامتی کے لیے ایران کا منصوبہ پانچ اصولوں پر استوار ہے:

۱۔ تمام محاذوں، بالخصوص لبنان اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ؛ دھمکیوں کے ساتھ بیک وقت مذاکرات مسلط کرنا ہے۔

۲۔ تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی قوم کے منجمد اثاثوں کی رہائی۔

۳۔ مسلط کردہ جنگوں کا ہرجانہ ادا کرنا؛ ایرانی قوم مقروض نہیں، بلکہ قرض خواہ ہے۔

۴۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور امریکہ کے فرسودہ سکیورٹی حصار کی جگہ ’’آبنائے ہرمز کے نظام‘‘ کو نافذ کرنا۔

۵۔ دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت اور مغربی ایشیا میں مقامی سطح پر خود انحصار سکیورٹی انتظامات کی تشکیل۔

یہ پانچ اصول کمزوری کی بنیاد پر پیش کردہ امن منصوبہ نہیں، بلکہ فعال مزاحمت کے تناظر میں طاقت کی بنیاد پر عالمی نظم و نظام کی تشکیل کا نظریہ ہے۔ ایران غلبہ (ہیجمنی) قائم کرنے کے درپے نہیں، بلکہ اس غلبے کے خاتمے کا خواہاں ہے جو ۷۳ سال قبل ۲۸ مرداد کی فوجی بغاوت کے ذریعے مسلط کیا گیا تھا اور آج ۱۳ آبان کے اسباق کی روشنی میں اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

ہمارا راستہ انقلابِ اسلامی کے عظیم اماموںؒ اور شہید رہبر (قدس سرہ الشریف) کا راستہ ہے، جنہوں نے امریکہ کو ’’شیطانِ بزرگ‘‘ قرار دیا اور ’’نہ مشرقی، نہ مغربی‘‘ اور ’’فعال مزاحمت‘‘ کی حکمت عملی اور پالیسی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک ناقابلِ انکار حقیقت بنا دیا۔ آج اس پرچم کی ذمہ داری ولایت و رہبری اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حضرت امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کے مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مسلح افواج آپ کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے میدانِ جنگ اور ہمہ جہتی و ادراکی جنگ کے محاذوں پر اس راستے کے تسلسل کی ضمانت دیتی ہیں۔

میں ملک کی طاقتور مسلح افواج کی نمائندگی کرتے ہوئے ۱۳ آبان، ’’عالمی استکبار کے خلاف قومی جدوجہد کے دن‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور انقلابِ اسلامی و عزیز ایران کے شہداء، بالخصوص امامِ شہید (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کے ساتھ تجدیدِ عہد کرتا ہوں اور سپریم کمانڈر انچیف کی حالیہ ہدایات و احکامات پر لبیک کہتے ہوئے اور دشمن کے شیطانی کیمپ کو خبردار کرتا ہوں اور اس بات پر زور دیتا ہوں:

مسلح افواج اور تاریخ ساز وطن کے محافظ، ایرانی عوام کی بھرپور قومی حمایت سے، جو ایران دشمن عناصر کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے، اپنی دانش مندانہ جنگی تیاری کو ’’زیادہ سے زیادہ دفاعی حکمتِ عملی‘‘ کی لازمی شرط سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے اہداف کی فہرست کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے امریکی۔صیہونی دشمن کے مادی اور غیر مادی اثاثوں کو اپنے نشانے پر رکھ کر ہر سطح اور ہر نوعیت کی دھمکی کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ماوراء جواب دیں گے۔

ھیھات منا الذلۃ!

میجر جنرل عبداللہی

News ID 1942583

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha